الیکشن کا اعلان 6سے8 ہفتوں میں ہوسکتا ہے

سینئر صحافی ایاز امیر کا تہلکہ خیز انکشاف

’’الیکشن کا اعلان 6سے8 ہفتوں میں ہوسکتا ہے‘‘ عمران خان کے اس بیان کے پیچھے کیا کہانی ہے؟ سینئر صحافی ایاز امیر کا تہلکہ خیز انکشاف۔۔۔اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سیاسی صورتحال پر اور عمران خان کے عام انتخابات کے متعلق بیان پر تجزیہ کرتے ہوئے تجزیہ کار ایاز امیر نے کہا کہ اگر وفاق میں
شہبازشریف اور صوبوں میں ان کی حکومت ہو تو کام چل سکتا ہے۔ انہوں نے پرویز الہیٰ کو بھی مشورہ دیا کہ وہ جتنی دیر بھی وزیراعلیٰ رہیں انہیں ڈٹ کر وزارت کرنی چاہیے۔ایاز امیر نے کہا کہ شہبازشریف کے متعلق جو خیال کیا جا رہا تھا وہ اتنے اچھے وزیراعظم ثابت نہیں ہوئے اور مفتاح اسماعیل تو مجھے کبھی کبھی جوکر لگتے ہیں۔ انہوں نے صرف پریس کانفرنس میں ہی معیشت ٹھیک کرنی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کی کمزوری ہے اور نہ صرف حکومت وزارت خزانہ بلکہ اسٹیٹ بینک کی بھی کمزوری ہے کہ وہ قیمتوں کو بہت زیادہ اوپر جانے دے رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ مفتاح اسماعیل کے ہاتھ معاشی اسٹیئرنگ وہیل پر ہیں ہی نہیں۔تجزیہ کار نے یہ بھی کہا کہ جب پریس کانفرنس کرتے ہیں تو لگتا ہے کہ مفتاح اسماعیل دنیا کے قابل ترین وزیر خزانہ ہیں لیکن ان کی کمزور معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں حالات مختلف ہیں۔یاد رہے کہ سابق وزیراعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ارکان پنجاب اسمبلی سے ملاقات میں کہا ہے کہ 6 سے 8 ہفتوں میں آئندہ عام انتخابات کا بگل بج سکتا ہے۔لاہور میں عمران خان نے ارکان پنجاب اسمبلی سے ملاقات کی۔ ذرائع کے مطابق عمران خان نے ارکان اسمبلی کو نئے انتخابات کی تیاری کا ٹاسک دے دیاپی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھاکہ 6 سے 8 ہفتوں میں آئندہ عام انتخابات کا بگل بج سکتا ہے لہٰذا ارکان اسمبلی اورپارٹی تنظیمیں انتخابات کی تیاری کریں۔ذرائع کے مطابق عمران خان نے ڈاکٹریاسمین راشدکو دو ہفتوں میں تنظیم سازی مکمل کرنےکاٹاسک دیا اور کہا کہ جن لوگوں نے ہمارے ساتھ دو نمبری کی، کسی کا نام نہیں لیناچاہتا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.